Sunday, February 4, 2024

maktab ki khubsurati bachon se hai

مجھے طہارت نہیں ۔

 

مجھے طہارت نہیں ہے!

از قلم  : (مفتی) محمد نعیم الظفر ملی رحمانی

ادارہ فیضان اصغر علی ملی

ایک مرتبہ ایک مولوی صاحب نے راستے سے چلتے ہوئے ایک نوجوان سے کہا کہ چلیے صاحب نماز کے لیے تو اس نوجوان نے کہا کہ مجھے طہارت نہیں ہے ، مولوی صاحب اس کا یہ جملہ سن کر چونک گئے اور سمجھ گئے کہ یہ کس طہارت کی بات کر رہا ہے۔ لہذا مولوی صاحب نے کہا کہ شاید اپ نے پیشاب کرنے کے بعد پانی نہیں لیا ہوگا یا پھر کھڑے ہو کر پیشاب کی ہوگی یا اپ کے بدن پر پیشاب کے چھینٹے اڑے ہوں گے یا پھر اپ گوشت کی دکان پر کام کرتے ہو تو خون کے چھینٹے اڑے ہوں گے ۔ اب آپ مجھے بتائیے کہ آپ نے کس چیز کی وجہ سے ``مجھے طہارت نہیں ہے`` کہا ۔

اب سنیے اس نوجوان کا جواب وہ کہتا ہے کہ میں نے کھڑے ہو کر پیشاب کی تھی جس کی وجہ سے میرے پیروں پر اور پینٹ کے نچلے حصے پر چھینٹے اڑے تھے جس کی وجہ سے میں ناپاک ہو گیا تھا ۔

مولوی صاحب مسکرائے اور کہا کہ چلیے میرا فتوی ہے کہ اپ کی نماز طہارت کے بغیر بھی ہو جائے گی، بشرطیکہ آپ اپنے پینٹ کے نچلے حصے اور پیروں کو اچھی طرح دھو لیں ۔ آپ کو غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔

جیسے ہی نماز ہوئی وہ نوجوان دوڑتا ہوا مولوی صاحب کے پاس آیا اور کہا مولانا صاحب میں نے تو سنا ہے کہ طہارت کے بغیر نماز نہیں ہوتی پھر آپ نے کیسے فتوی دے دیا کہ صرف پینٹ اور پیر دھونے سے نماز ہو جائے گی ذرا مجھے تفصیل کے ساتھ بتائیے ۔

زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے بس اتنا جان لو کہ طہارت کہتے ہیں صفائی ستھرائی کو اور آپ ہی کی طرح میں نے بہت سے لوگوں سے یہی جملہ سنا ہے کہ مجھے طہارت نہیں ہے اور طہارت کا مطلب نہ جاننے کی وجہ سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے یا پیشاب کے چھینٹیں بدن یا کپڑوں پر اڑنے سے یا جانور کے خون کے چھینٹے بدن پر لگ جانے سے یا شہوت کی وجہ سے چکنا پانی نکل جانے کی وجہ سے انسان ناپاک ہو جاتا ہے اور جب تک غسل نہیں کرے گا پاک نہیں ہوگا۔

تو اس پر میرا  جواب غور سے سنیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں کہ میں نے جتنی بھی چیزیں اوپر بیان کی ہیں ان میں سے کوئی بھی معاملہ پیش آتا ہے اور بدن یا کپڑوں پر پیشاب کے چھینٹیں لگ جاتے ہیں یا شہوت سے نکلنے والا چکنا پانی لگ جاتا ہے تو اسے اچھی طرح دھو لینے اور اس کے بعد وضو کر لینے سے نماز پڑھنا درست ہے ، غسل کرنے کی ضرورت نہیں ۔

اب آپ کے دل میں سوال پیدا ہو رہا ہوگا کہ پھر غسل کب فرض ہوتا ہے ؟

تو اس کا بھی جواب سن لیجئے کہ غسل کے فرض ہونے کے لیے چار چیزوں کا پایا جانا ضروری ہے دو چیزیں تو عورتوں سے متعلق ہیں جس کا بیان کرنا میں ابھی ضروری نہیں سمجھتا باقی جو دو مسائل ہیں وہ اپ ضرور جان لیجئے : 1) جس وقت آدمی جنبی ہو ۔ ( ہمبستری ، احتلام ، یا کسی بھی وجہ سے مادہ منویہ کا شہوت کے ساتھ نکلنا )

  2) یا پھر آدمی مر گیا ہو کیونکہ مرنے کے بعد میت کو غسل دینا فرض ہو جاتا ہے ۔

اب آپ کو معلوم ہو ہی گیا ہوگا کہ غسل کب فرض ہوتا ہے اور مجھے طہارت نہیں ہے کب کہا جائے ۔

اور جو شخص اس طرح کی چھوٹی بڑی ناپاکی میں ملوث رہتا ہے وہ بہت بڑے خسارے میں ہے۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا کہ : ان اللہ یحب التوابین و یحب المتطہرین : بے شک اللہ تبارک و تعالی پاک صاف رہنے والوں اور توبہ کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں ۔ اسی طرح اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الطہور شطر الایمان : پاکی آدھا ایمان ہے ۔

اب آپ اس ایت اور حدیث کی روشنی میں سوچیے کہ جو شخص چھوٹی اور بڑی ناپاکی میں ہمیشہ ملوث رہتا ہے ایک تو اس کا آدھا ایمان ہی غائب ہے اور دوسری بات یہ کہ ایسا شخص اللہ کی محبت سے بھی دور ہے اور اللہ کی محبت سے دوری یہ تمام مصیبتوں بلاؤں اور پریشانیوں کی جڑ ہے ۔

·       لہذا مولوی صاحب نے فرمایا کہ اب آپ سے کوئی کہے کہ مجھے طہارت نہیں ہے تو آپ اس سے سوال کریں کہ کون سی طہارت چھوٹی یا بڑی اگر چھوٹی طہارت ہے تو آپ اسے اس کا حل بتائیے اور اگر بڑی طہارت مراد ہے تو آپ اسے مسئلہ بتا کر کے اور اس مسئلہ کی نزاکت کی طرف اس کی توجہ مبزول کرا کر کے اسے فورا پاک ہو کر مسجد آکر نماز پڑھنے کی دعوت دیجئے ۔