Thursday, October 2, 2025

فادر ڈے اور اسلام

 یوم والد (فادر ڈے)

واہ رے انسان تیری عقل و سوچ اور فکر کو کیا ہوگیا کہ تم نے روزانہ کرنے والے کاموں کو دن میں محدود کر لیا جیسے فادر ڈے ہی کو لے لیجئے کہ صرف اسی دن والد کی عزت و تکریم کی جاتی ہے، ان کے سامنے ان کی محنت کے تذکرے کیے جاتے ہیں، انہیں فادر ڈے کے موقع پر یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ اس دنیا کے سب سے عظیم باپ ہے ۔ 

لیکن جیسے ہی فادر ڈے کا سورج غروب ہوتا ہے اور دوسرے دن کا سورج طلوع ہوتا ہے تو وہی باپ جو ایک رات پہلے دنیا کا سب سے عظیم الشان باپ تھا وہ دنیا کا سب سے ظالم اور خراب بن جاتا ہے ۔ جو تذکرے، قصیدے، مضامین پڑھے یا لکھے گئے تھے وہ سب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور یہی باپ پھر سے آئندہ آنے والے فادر ڈے کا شدت سے انتظار کرتا ہے ۔ 

             اے انسان تو یہ کیوں نہیں سمجھتا کہ تیرے والدین صرف فادر ڈے ہی کے دن عزت و اکرام کے حق دار نہیں ہیں ، بلکہ ان کا حق تو یہ ہے کہ ان کی عزت و تکریم روزانہ کی جائے ۔ زندگی کا ہر ایک لمحہ بھی اگر تو نے ان کی خدمت میں گزار دیا تب بھی ان کا حق ادا نہیں کر سکتا ۔ قربان جائیے اللہ اور اس کے رسول پر کہ انھوں نے اس بارے میں ہماری رہنمائی فرمائی ۔  

وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ کِلٰهُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡهُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾


ترجمہ : از معارف القرآن


اور حکم کر چکا تیرا رب کہ نہ پوجو اس کے سوائے اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اگر پہنچ جائے تیرے سامنے بڑھاپے کو ایک ان میں سے یا دونوں تو نہ کہہ ان کو اف (اہوں) اور نہ جھڑک ان کو اور کہہ ان سے نرم بات ۔ 

مطلب : اس آیت میں اللہ نے تین احکام بیان فرمائے ہیں پہلا حکم :  یہ ہے کہ والدین کو اف بھی نہ کہیں ۔

 دوسرا حکم :  یہ ہے کہ ان کو نہ جھڑکے۔ 

تیسرا حکم : یہ ہے کہ ان کے ساتھ نرم لہجہ میں بات کی جائے ۔ 

امام قرطبی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے والدین کے ادب واحترام اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو اپنی عبادت کے ساتھ ملا کر واجب فرمایا ہے ۔ سورۃ لقمان میں :    اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ   (یعنی میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ جل شانہ کی عبادت کے بعد والدین کی اطاعت سب سے اہم اور اللہ تعالیٰ کے شکر کی طرح والدین کا شکر گذار ہونا واجب ہے ۔ 


والدین کی اطاعت وخدمت کے فضائل روایات حدیث میں :


(١) مسند احمد ترمذی ابن ماجہ مستدرک حاکم میں بسند صحیح حضرت ابو الدرداء (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے اب تمہیں اختیار ہے کہ اس کی حفاظت کرو یا ضائع کر دو ۔ (مظہری)


(٢) اور جامع ترمذی ومستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ ابن عمر (رض) کی روایت ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کی رضاء باپ کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے ۔


(٣) ابن ماجہ نے بروایت حضرت ابو امامہ (رض) نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ اولاد پر ماں باپ کا کیا حق ہے آپ نے فرمایا کہ وہ دونوں ہی تیری جنت یا دوزخ ہیں مطلب یہ ہے کہ ان کی اطاعت وخدمت جنت میں لے جاتی ہے اور ان کی بےادبی اور ناراضی دوزخ میں ۔


٤) بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن عساکر نے بروایت حضرت ابن عباس (رض) نقل کیا ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے لئے اپنے ماں باپ کا فرمانبردار رہا اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھلے رہیں گے اور جو ان کا نافرمان ہو اس کے لئے جہنم کے دو دروازے کھلے رہیں گے اور اگر ماں باپ میں سے کوئی ایک ہی تھا تو ایک دروازہ (جنت یا دوزخ کا کھلا رہے گا) اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ (یہ جہنم کی وعید) کیا اس صورت میں بھی ہے کہ ماں باپ نے اس شخص پر ظلم کیا ہو تو آپ نے تین مرتبہ فرمایا : ٭ وان ظلما وان ظلما وان ظلما ٭ (یعنی ماں باپ کی نافرمانی اور ان کو ایذا رسانی پر جہنم کی وعید ہے خواہ ماں باپ نے ہی لڑکے پر ظلم کیا ہو جس کا حاصل یہ ہے کہ اولاد کو ماں باپ سے انتقام لینے کا حق نہیں کہ انہوں نے ظلم کیا تو یہ بھی ان کی خدمت واطاعت سے ہاتھ کھینچ لیں) .


تو اے انسان ان آیات قرآنیہ اور احادیث مبارکہ سے تجھ کو بخوبی معلوم ہوگیا ہوگا کہ اللہ تعالی کیا کہنا چاہتے ہے ۔

     اللہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اپنے  والد کو جو جنت کا دروازہ ہے خوش رکھو ۔

 اس کو راضی رکھو کیونکہ اس کی رضامندی میں اللہ کی رضا مندی ہے .

 اس کی خدمت کرو  کیونکہ وہ تمہاری جنت ہے ۔

 ان کا کہنا مانوں جنت کے دروازے تمہارے لئےکھلے رہیں گے.

 اور تمہیں والدین سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔


 موبائل پیسہ زمین جائیداد کے چکر میں والدین کی عزت کی دھّجیاں نہ اڑاؤ۔

 انہیں چوراہے پر کھڑے کر کے گالیاں نہ دو ۔

 ان پر خرچ کرنے کو بوجھ نہ سمجھو ۔

یہ وہی ماں باپ ہے جنہوں نے تیرے ایک چاکلیٹ کے خاطر خوب محنت کی ۔ 

 تو نے جب پیسہ مانگا تب پیسہ دیا تو نے جب کپڑے مانگے کپڑے دیے۔ تو بیمار ہوا تو تیرے بیماری کا خرچ اٹھایا ۔ 

تیرے اسکول کی فیس ، ٹیوشن کی فیس ، تیرے مکتب ، مدرسے کی فیس ادا کی ۔ تجھے اس قابل بنایا کہ تو معاشرے میں سر اٹھا کے چل سکے ۔ اور تو چاہتا ہے کہ فادر ڈے کے دن ایک سیلفی لے کر کے ایک کیک کاٹ کر کے اور چند اشعار ان کے تعریف میں کہہ کر کے سارا کا سارا بدلہ چکا دے ! 

یہ نہیں ہو سکتا ۔

  زندگی کا ایک ایک سیکنڈ بھی اگر ان کی خدمت میں لگا دیا تب بھی تو ان کا حق ادا نہیں کر سکتا ۔ 

لہذا تجھ کو چاہیے کہ تو روزانہ کچھ وقت نکال کر اپنے والدین کے پاس بیٹھ اور ان کی ہر مشکل کو حل کرنے کی کوشش کر۔ 

قرآن اور حدیث کے ان تعلیمات کو سن کر آپ کو پتہ چل گیا ہوگا کہ ہمارا اسلام کتنا خوبصورت ہے۔ 

اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔


فقط والسلام 

مفتی محمد نعیم الظفر

 ملی رحمانی 

۲۹ اگست ۲۰۲۲

No comments:

Post a Comment