Tuesday, January 9, 2024
Saturday, January 6, 2024
game ka game گیم کا گیم
گیم کا گیم
از قلم :
(مفتی) نعیم الظفر ابن مولانا محمد اصغر علی ملی ۔
ادارہ
فیضانِ اصغر علی ملی ۔
اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے ۔ امت
پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے ۔
دور جدید میں ایمان والوں کے لیے ہر قدم پر چیلنجیز کا سامنا ہے ہیں نت نئی چیزوں
کے ایجاد نے انسان کی زندگی کو زیادہ مصروف کر دیا ہے۔ مصروفیات اگر شریعت کے
دائرہ میں ہو مفید اور کار آمد ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔ مگر آج کی جو مصروفیات ہےاس
پر جتنی مرتبہ لاحول اور استغفار پڑھا
جائے کم ہے ۔ پہلے جب مصروف انسان یہ لفظ بولا جاتا تھا تواس جملے میں ایک وزن اور
تاثیر معلوم ہوتی تھی جو عظمت سے قدر و احترام سے دل و نظر کو مزین کر دیتا تھا۔
مگر آج اسطرح کی مصروفیت خال خال باقی رہ گئی ہیں۔ اور اس جگہ نئی مصروفیتوں نے جگہ
لے لی ہے۔ آپ نے ٹیلی ویزن کا نام تو سنا ہو گا ابتداء لوگوں نے اسے خوب سراہا اس
کے خوب فوائد بیان کئے یہاں تک کہ اقوام متحدہ نے ۲۱ نومبر ۱۹۹۶ کو پہلی ورلڈ ٹیلی
ویژن فورم کی مناسبت سے ہر سال اکیس نومبر کو ورلڈ ٹیلی ویزن ڈے منانے کا اعلان
کیا تھا اب ٹیلی ویزن صرف ٹیلی ویزن نہیں رہا تھا بلکہ وہ گھر کا ایک فرد بن چکا
تھا لوگوں کی امیری و غریبی کا معیار بن چکا تھا دھیرے دھیرے یہ خوب عام ہوا پھر
کیا امیر اور غریب سب کے گھروں میں پہنچ
کر انہیں لت لگا چکا تھا اور جب لوگوں کو اسکی خوب عادت پڑگئی اور اس سے جان چھڑانا
مشکل ہوگیا تب اسکے نقصانات بھی سامنے آئے مگر اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی ۔ اور اس
مرض میں مرد ، عورتیں ، بوڑھے ، جو ان سب مبتلا ہو چکے تھے۔وہ امراض اور نقصانات
یہ تھے کہ وقت کی بربادی کا احساس نہیں ہوتا تھا ساتھ ہی دین و دنیا دونوں سے ہاتھ
دھو بیٹھتے نہ کاروبار میں دھیان نہ نماز روزہ میں بے حیائی عروج پر پہنچ چکی تھی
والدین نے بچوں کی تربیت سے دامن جھاڑ لیا تھا ، پلموری امبولزم جیسی مہلک
بیماریوں نے ڈیرہ ڈال دیا تھا ، اخبار بینی و مطالعہ ختم ہو چکا تھا ، ساتھ ہی
معاشرہ میں زہر گھولنا ، انسان کو انسان سے
لڑانا مذہب کی بنیاد پر تو کبھی مال و دولت کی بنیاد پر یہ وہ مصروفیات تھیں جو
سراسر نقصان و ھلاکت کا باعث تھی ، اور ان تمام بری عادتوں سے بچنے کے لیے اللہ کے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعا سکھائی تھی : اللهم
جنبنى منكرات الاخلاق و الاعمال و الأهواء و الادواء .
( أخرجه الترمذي)
ترجمه: اے اللہ مجھے برے اخلاق برے اعمال بری خواہشات اور بری بیماریوں سے بچا ۔
اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی شان سے امید ہے کہ اللہ
تعالیٰ اس دعا کو روز پڑھنے والے کی اس مضمون میں ذکر کردہ تمام برائیوں سے حفاظت
فرمائے گا ۔ آمین
ٹیلی ویژن نے کیا کم ستم ڈھایا تھا کہ موبائیل فون بھی
آدھمکے اسی مو بائل فون نے مصروفیات کے معنی ہی تبدیل کر دیئے کسی کو فلموں میں ،
کسی کو کرکٹ میں ، کسی کو فحش اور گندی فلموں میں تو کسی کو گیمز میں مصروف کردیا
۔
کیا اپ جانتے ہیں کہ ان بے کار اور بے فائدہ مصروفیتوں
نے کتنے خطرناک اور ہلاکت خیز اثرات معاشرے پر ڈالے۔ٹیلی ویژن نے مسلمانوں سے ان
کے تشخصات چھین لئے تشخصات کے اہمیتوں کو ختم کیا اور ساتھ ہی بدنام بھی کیا ۔بے
حیائی کو عام کیا ، عوام و علماء کے درمیان دراڑیں پیدا کیں ، مسائل شریعت کے ساتھ
چھیڑ چھاڑ کی گئی ،ایک مسلمان کو اس کے دین سے بغاوت پر ابھارا گیا۔ وغیرہ
اس سے زیادہ ہلاکت خیز اور خطرناک اثرات معاشرہ پر موبائل
نے چھوڑے مسلمانوں کا سب سے بڑا جو نقصان ہوا وہ ایمان کا ہوا اسی موبائل کے ذریعہ
ارتداد و الحاد نے زور پکڑا ہماری مسلم بیٹیاں اور بیٹے راہ راست سے جو متنفر ہوئے
اس میں موبائیل کا بہت بڑا دخل ہے ۔ اسی موبائیل نے ادب و احترام کو ختم کر دیا ، والدین
سے ان کے اولاد اور اولادوں سے انکے والدین چھین! لئے ان کے درمیان کی محبتوں
کوختم کیا ، بچوں سے طلباء و طالبات سے ان کا مستقبل چھین لیا، گھر کا سکون و چین
غارت کر دیا، نوجوانوں سے ان کی حیا اور پاکدامنی
چھین لی ، مال حرام کی تمیز چھین لی۔ اسی جانب علا مہ اقبال نے اشارہ کیا تھا۔
کہ شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نا بود۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم
موجود۔
وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود۔ یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں
یہود۔
محترم قارئین کرام :
ان تمام مصروفیات میں ایک مصروفیت ہمارے نوجوانوں کی مصروفیت گیم ہے یہ بھی معاشرہ کا بہت ہی بڑا ناسور بنتا جا
رہا ہے اوپر جو خرابیاں بیان کی گئی ہیں
وہ تو ہمارے نوجوانوں میں ہیں مگر اب وہ ان کی طبیعتوں پر بھی بڑا گہرا اثر ڈال
رہی ہے ڈاکٹروں کے مطابق موبائل کا استعمال کرنے والے اور گیمز کھیلنے والے بچے جسمانی اور مینٹلی طور پر
متاثر ہو رہے ہیں چھوٹے اور معصوم بچوں نے کھانا پینا کم کر دیا ہے ، ان بچوں میں
چڑچڑا پن ، حالت کا نہ بننا ، ذہنی تناؤ ، آنکھوں اور دماغ کا بیلنس کھو دینا ، موبائل نہ دینے پر بیمار ہو جانا جیسے امراض
پائے جا رہے ہیں ۔
ایسے ہی ایک اور ہلاکت خیز مصروفیت جس میں مسلم معاشرہ
دن بدن مصروف ہوتا جا رہا ہے اور حلال و حرام کی تمیز ، چھوٹے بڑوں کا احترام ختم
ہو رہا ہے جیسے کہ مسلمانوں کا اس سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے ۔ وہ ہے ان لائن گیم جس پر جوا اور سٹا کھیلا جاتا
ہے ان گیم میں سے چند گیم کا تذکرہ میں کرتا ہوں ۔
رمی سرکل ،
پب جی ، لوڈو ، تین پتی، کینڈی کرش
، بنگو وغیرہ ۔
پہلے زمانے میں کیرم ، مٹکہ ، پتے ، اکڑے ، کھیلے جاتے
تھے اور جو شخص ان کھیلوں میں ملوث پایا جاتا تو اسے خوب لعن تان کیا جاتا تھا
معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں رہتا تھا ، مگر اب یہ سارے کھیل موبائل
میں آگئے ہیں جس پر جوا اور سٹہ لگایا جاتا ہے جو کہ سراسر حرام ہے اب اس میں صرف
بدمعاش لوگ ہی نہیں بلکہ دیندار سمجھے جانے والے لوگ بھی مبتلا ہیں ۔ العیاذ باللہ
لہذا جوا ، سٹہ اور ان جیسی برے گیم میں اللہ
اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا فرمان ہے ملاحظہ فرمائیں ۔
يا ايها الذين امنوا انما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس
من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون. )سوره
المائده)
اے ایمان والو یہ جو ہے شراب اور جوا ، بت اور پانسے سب
گندے کام ہیں شیطان کے تو ان سے بچتے رہو
تاکہ تم نجات پاؤ ۔
اس ایت مبارکہ میں شراب جوا بت اور تیرا اندازی کے
ذریعے کھیلے جانے والے جوئے کو شیطان کے عملوں میں سے اور حرام ہونا بتایا ۔ اور
کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لیے اس سے بچنے کا حکم بھی دیا۔
اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ جو شخص نرد
یعنی چوسر جوئے کے طور پر کھیلتا ہے وہ خنزیر کے گوشت کھانے والے کی طرح ہے اور جو
جوئے کے طور پر نہیں کھیلتا تو اس کی مثال خنزیر کی چربی کا تیل استعمال کرنے والی
کی طرح ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد نمبر 14 صفحہ نمبر 372 )
مذکورہ آیت اور حدیث مبارکہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ
مذکورہ موبائل گیم حرام و ناجائز ہے ان کا کھیلنا ایک شریف النفس انسان کی شرافت
کے بھی خلاف ہے ۔
مجھے امید ہے کہ آپ کو پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ
موبائل گیم نے ہماری گیم کس طرح کی۔