Thursday, October 2, 2025

فادر ڈے اور اسلام

 یوم والد (فادر ڈے)

واہ رے انسان تیری عقل و سوچ اور فکر کو کیا ہوگیا کہ تم نے روزانہ کرنے والے کاموں کو دن میں محدود کر لیا جیسے فادر ڈے ہی کو لے لیجئے کہ صرف اسی دن والد کی عزت و تکریم کی جاتی ہے، ان کے سامنے ان کی محنت کے تذکرے کیے جاتے ہیں، انہیں فادر ڈے کے موقع پر یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ اس دنیا کے سب سے عظیم باپ ہے ۔ 

لیکن جیسے ہی فادر ڈے کا سورج غروب ہوتا ہے اور دوسرے دن کا سورج طلوع ہوتا ہے تو وہی باپ جو ایک رات پہلے دنیا کا سب سے عظیم الشان باپ تھا وہ دنیا کا سب سے ظالم اور خراب بن جاتا ہے ۔ جو تذکرے، قصیدے، مضامین پڑھے یا لکھے گئے تھے وہ سب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور یہی باپ پھر سے آئندہ آنے والے فادر ڈے کا شدت سے انتظار کرتا ہے ۔ 

             اے انسان تو یہ کیوں نہیں سمجھتا کہ تیرے والدین صرف فادر ڈے ہی کے دن عزت و اکرام کے حق دار نہیں ہیں ، بلکہ ان کا حق تو یہ ہے کہ ان کی عزت و تکریم روزانہ کی جائے ۔ زندگی کا ہر ایک لمحہ بھی اگر تو نے ان کی خدمت میں گزار دیا تب بھی ان کا حق ادا نہیں کر سکتا ۔ قربان جائیے اللہ اور اس کے رسول پر کہ انھوں نے اس بارے میں ہماری رہنمائی فرمائی ۔  

وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ کِلٰهُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡهُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾


ترجمہ : از معارف القرآن


اور حکم کر چکا تیرا رب کہ نہ پوجو اس کے سوائے اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اگر پہنچ جائے تیرے سامنے بڑھاپے کو ایک ان میں سے یا دونوں تو نہ کہہ ان کو اف (اہوں) اور نہ جھڑک ان کو اور کہہ ان سے نرم بات ۔ 

مطلب : اس آیت میں اللہ نے تین احکام بیان فرمائے ہیں پہلا حکم :  یہ ہے کہ والدین کو اف بھی نہ کہیں ۔

 دوسرا حکم :  یہ ہے کہ ان کو نہ جھڑکے۔ 

تیسرا حکم : یہ ہے کہ ان کے ساتھ نرم لہجہ میں بات کی جائے ۔ 

امام قرطبی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے والدین کے ادب واحترام اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو اپنی عبادت کے ساتھ ملا کر واجب فرمایا ہے ۔ سورۃ لقمان میں :    اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ   (یعنی میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ جل شانہ کی عبادت کے بعد والدین کی اطاعت سب سے اہم اور اللہ تعالیٰ کے شکر کی طرح والدین کا شکر گذار ہونا واجب ہے ۔ 


والدین کی اطاعت وخدمت کے فضائل روایات حدیث میں :


(١) مسند احمد ترمذی ابن ماجہ مستدرک حاکم میں بسند صحیح حضرت ابو الدرداء (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے اب تمہیں اختیار ہے کہ اس کی حفاظت کرو یا ضائع کر دو ۔ (مظہری)


(٢) اور جامع ترمذی ومستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ ابن عمر (رض) کی روایت ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کی رضاء باپ کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے ۔


(٣) ابن ماجہ نے بروایت حضرت ابو امامہ (رض) نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ اولاد پر ماں باپ کا کیا حق ہے آپ نے فرمایا کہ وہ دونوں ہی تیری جنت یا دوزخ ہیں مطلب یہ ہے کہ ان کی اطاعت وخدمت جنت میں لے جاتی ہے اور ان کی بےادبی اور ناراضی دوزخ میں ۔


٤) بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن عساکر نے بروایت حضرت ابن عباس (رض) نقل کیا ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے لئے اپنے ماں باپ کا فرمانبردار رہا اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھلے رہیں گے اور جو ان کا نافرمان ہو اس کے لئے جہنم کے دو دروازے کھلے رہیں گے اور اگر ماں باپ میں سے کوئی ایک ہی تھا تو ایک دروازہ (جنت یا دوزخ کا کھلا رہے گا) اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ (یہ جہنم کی وعید) کیا اس صورت میں بھی ہے کہ ماں باپ نے اس شخص پر ظلم کیا ہو تو آپ نے تین مرتبہ فرمایا : ٭ وان ظلما وان ظلما وان ظلما ٭ (یعنی ماں باپ کی نافرمانی اور ان کو ایذا رسانی پر جہنم کی وعید ہے خواہ ماں باپ نے ہی لڑکے پر ظلم کیا ہو جس کا حاصل یہ ہے کہ اولاد کو ماں باپ سے انتقام لینے کا حق نہیں کہ انہوں نے ظلم کیا تو یہ بھی ان کی خدمت واطاعت سے ہاتھ کھینچ لیں) .


تو اے انسان ان آیات قرآنیہ اور احادیث مبارکہ سے تجھ کو بخوبی معلوم ہوگیا ہوگا کہ اللہ تعالی کیا کہنا چاہتے ہے ۔

     اللہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اپنے  والد کو جو جنت کا دروازہ ہے خوش رکھو ۔

 اس کو راضی رکھو کیونکہ اس کی رضامندی میں اللہ کی رضا مندی ہے .

 اس کی خدمت کرو  کیونکہ وہ تمہاری جنت ہے ۔

 ان کا کہنا مانوں جنت کے دروازے تمہارے لئےکھلے رہیں گے.

 اور تمہیں والدین سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔


 موبائل پیسہ زمین جائیداد کے چکر میں والدین کی عزت کی دھّجیاں نہ اڑاؤ۔

 انہیں چوراہے پر کھڑے کر کے گالیاں نہ دو ۔

 ان پر خرچ کرنے کو بوجھ نہ سمجھو ۔

یہ وہی ماں باپ ہے جنہوں نے تیرے ایک چاکلیٹ کے خاطر خوب محنت کی ۔ 

 تو نے جب پیسہ مانگا تب پیسہ دیا تو نے جب کپڑے مانگے کپڑے دیے۔ تو بیمار ہوا تو تیرے بیماری کا خرچ اٹھایا ۔ 

تیرے اسکول کی فیس ، ٹیوشن کی فیس ، تیرے مکتب ، مدرسے کی فیس ادا کی ۔ تجھے اس قابل بنایا کہ تو معاشرے میں سر اٹھا کے چل سکے ۔ اور تو چاہتا ہے کہ فادر ڈے کے دن ایک سیلفی لے کر کے ایک کیک کاٹ کر کے اور چند اشعار ان کے تعریف میں کہہ کر کے سارا کا سارا بدلہ چکا دے ! 

یہ نہیں ہو سکتا ۔

  زندگی کا ایک ایک سیکنڈ بھی اگر ان کی خدمت میں لگا دیا تب بھی تو ان کا حق ادا نہیں کر سکتا ۔ 

لہذا تجھ کو چاہیے کہ تو روزانہ کچھ وقت نکال کر اپنے والدین کے پاس بیٹھ اور ان کی ہر مشکل کو حل کرنے کی کوشش کر۔ 

قرآن اور حدیث کے ان تعلیمات کو سن کر آپ کو پتہ چل گیا ہوگا کہ ہمارا اسلام کتنا خوبصورت ہے۔ 

اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔


فقط والسلام 

مفتی محمد نعیم الظفر

 ملی رحمانی 

۲۹ اگست ۲۰۲۲

Sunday, February 4, 2024

maktab ki khubsurati bachon se hai

مجھے طہارت نہیں ۔

 

مجھے طہارت نہیں ہے!

از قلم  : (مفتی) محمد نعیم الظفر ملی رحمانی

ادارہ فیضان اصغر علی ملی

ایک مرتبہ ایک مولوی صاحب نے راستے سے چلتے ہوئے ایک نوجوان سے کہا کہ چلیے صاحب نماز کے لیے تو اس نوجوان نے کہا کہ مجھے طہارت نہیں ہے ، مولوی صاحب اس کا یہ جملہ سن کر چونک گئے اور سمجھ گئے کہ یہ کس طہارت کی بات کر رہا ہے۔ لہذا مولوی صاحب نے کہا کہ شاید اپ نے پیشاب کرنے کے بعد پانی نہیں لیا ہوگا یا پھر کھڑے ہو کر پیشاب کی ہوگی یا اپ کے بدن پر پیشاب کے چھینٹے اڑے ہوں گے یا پھر اپ گوشت کی دکان پر کام کرتے ہو تو خون کے چھینٹے اڑے ہوں گے ۔ اب آپ مجھے بتائیے کہ آپ نے کس چیز کی وجہ سے ``مجھے طہارت نہیں ہے`` کہا ۔

اب سنیے اس نوجوان کا جواب وہ کہتا ہے کہ میں نے کھڑے ہو کر پیشاب کی تھی جس کی وجہ سے میرے پیروں پر اور پینٹ کے نچلے حصے پر چھینٹے اڑے تھے جس کی وجہ سے میں ناپاک ہو گیا تھا ۔

مولوی صاحب مسکرائے اور کہا کہ چلیے میرا فتوی ہے کہ اپ کی نماز طہارت کے بغیر بھی ہو جائے گی، بشرطیکہ آپ اپنے پینٹ کے نچلے حصے اور پیروں کو اچھی طرح دھو لیں ۔ آپ کو غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔

جیسے ہی نماز ہوئی وہ نوجوان دوڑتا ہوا مولوی صاحب کے پاس آیا اور کہا مولانا صاحب میں نے تو سنا ہے کہ طہارت کے بغیر نماز نہیں ہوتی پھر آپ نے کیسے فتوی دے دیا کہ صرف پینٹ اور پیر دھونے سے نماز ہو جائے گی ذرا مجھے تفصیل کے ساتھ بتائیے ۔

زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے بس اتنا جان لو کہ طہارت کہتے ہیں صفائی ستھرائی کو اور آپ ہی کی طرح میں نے بہت سے لوگوں سے یہی جملہ سنا ہے کہ مجھے طہارت نہیں ہے اور طہارت کا مطلب نہ جاننے کی وجہ سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے یا پیشاب کے چھینٹیں بدن یا کپڑوں پر اڑنے سے یا جانور کے خون کے چھینٹے بدن پر لگ جانے سے یا شہوت کی وجہ سے چکنا پانی نکل جانے کی وجہ سے انسان ناپاک ہو جاتا ہے اور جب تک غسل نہیں کرے گا پاک نہیں ہوگا۔

تو اس پر میرا  جواب غور سے سنیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں کہ میں نے جتنی بھی چیزیں اوپر بیان کی ہیں ان میں سے کوئی بھی معاملہ پیش آتا ہے اور بدن یا کپڑوں پر پیشاب کے چھینٹیں لگ جاتے ہیں یا شہوت سے نکلنے والا چکنا پانی لگ جاتا ہے تو اسے اچھی طرح دھو لینے اور اس کے بعد وضو کر لینے سے نماز پڑھنا درست ہے ، غسل کرنے کی ضرورت نہیں ۔

اب آپ کے دل میں سوال پیدا ہو رہا ہوگا کہ پھر غسل کب فرض ہوتا ہے ؟

تو اس کا بھی جواب سن لیجئے کہ غسل کے فرض ہونے کے لیے چار چیزوں کا پایا جانا ضروری ہے دو چیزیں تو عورتوں سے متعلق ہیں جس کا بیان کرنا میں ابھی ضروری نہیں سمجھتا باقی جو دو مسائل ہیں وہ اپ ضرور جان لیجئے : 1) جس وقت آدمی جنبی ہو ۔ ( ہمبستری ، احتلام ، یا کسی بھی وجہ سے مادہ منویہ کا شہوت کے ساتھ نکلنا )

  2) یا پھر آدمی مر گیا ہو کیونکہ مرنے کے بعد میت کو غسل دینا فرض ہو جاتا ہے ۔

اب آپ کو معلوم ہو ہی گیا ہوگا کہ غسل کب فرض ہوتا ہے اور مجھے طہارت نہیں ہے کب کہا جائے ۔

اور جو شخص اس طرح کی چھوٹی بڑی ناپاکی میں ملوث رہتا ہے وہ بہت بڑے خسارے میں ہے۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا کہ : ان اللہ یحب التوابین و یحب المتطہرین : بے شک اللہ تبارک و تعالی پاک صاف رہنے والوں اور توبہ کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں ۔ اسی طرح اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الطہور شطر الایمان : پاکی آدھا ایمان ہے ۔

اب آپ اس ایت اور حدیث کی روشنی میں سوچیے کہ جو شخص چھوٹی اور بڑی ناپاکی میں ہمیشہ ملوث رہتا ہے ایک تو اس کا آدھا ایمان ہی غائب ہے اور دوسری بات یہ کہ ایسا شخص اللہ کی محبت سے بھی دور ہے اور اللہ کی محبت سے دوری یہ تمام مصیبتوں بلاؤں اور پریشانیوں کی جڑ ہے ۔

·       لہذا مولوی صاحب نے فرمایا کہ اب آپ سے کوئی کہے کہ مجھے طہارت نہیں ہے تو آپ اس سے سوال کریں کہ کون سی طہارت چھوٹی یا بڑی اگر چھوٹی طہارت ہے تو آپ اسے اس کا حل بتائیے اور اگر بڑی طہارت مراد ہے تو آپ اسے مسئلہ بتا کر کے اور اس مسئلہ کی نزاکت کی طرف اس کی توجہ مبزول کرا کر کے اسے فورا پاک ہو کر مسجد آکر نماز پڑھنے کی دعوت دیجئے ۔

Saturday, January 6, 2024

game ka game گیم کا گیم

 

گیم کا گیم

از قلم : (مفتی) نعیم الظفر ابن مولانا محمد اصغر علی ملی ۔

ادارہ فیضانِ اصغر علی ملی ۔

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے ۔                           امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے ۔

دور جدید میں ایمان والوں کے لیے  ہر قدم پر چیلنجیز کا سامنا ہے ہیں نت نئی چیزوں کے ایجاد نے انسان کی زندگی کو زیادہ مصروف کر دیا ہے۔ مصروفیات اگر شریعت کے دائرہ میں ہو مفید اور کار آمد ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔ مگر آج کی جو مصروفیات ہےاس پر  جتنی مرتبہ لاحول اور استغفار پڑھا جائے کم ہے ۔ پہلے جب مصروف انسان یہ لفظ بولا جاتا تھا تواس جملے میں ایک وزن اور تاثیر معلوم ہوتی تھی جو عظمت سے قدر و احترام سے دل و نظر کو مزین کر دیتا تھا۔ مگر آج اسطرح کی مصروفیت خال خال باقی رہ گئی ہیں۔ اور اس جگہ نئی مصروفیتوں نے جگہ لے لی ہے۔ آپ نے ٹیلی ویزن کا نام تو سنا ہو گا ابتداء لوگوں نے اسے خوب سراہا اس کے خوب فوائد بیان کئے یہاں تک کہ اقوام متحدہ نے ۲۱ نومبر ۱۹۹۶ کو پہلی ورلڈ ٹیلی ویژن فورم کی مناسبت سے ہر سال اکیس نومبر کو ورلڈ ٹیلی ویزن ڈے منانے کا اعلان کیا تھا اب ٹیلی ویزن صرف ٹیلی ویزن نہیں رہا تھا بلکہ وہ گھر کا ایک فرد بن چکا تھا لوگوں کی امیری و غریبی کا معیار بن چکا تھا دھیرے دھیرے یہ خوب عام ہوا پھر کیا  امیر اور غریب سب کے گھروں میں پہنچ کر انہیں لت لگا چکا تھا اور جب لوگوں کو اسکی خوب عادت پڑگئی اور اس سے جان چھڑانا مشکل ہوگیا تب اسکے نقصانات بھی سامنے آئے مگر اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی ۔ اور اس مرض میں مرد ، عورتیں ، بوڑھے ، جو ان سب مبتلا ہو چکے تھے۔وہ امراض اور نقصانات یہ تھے کہ وقت کی بربادی کا احساس نہیں ہوتا تھا ساتھ ہی دین و دنیا دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے نہ کاروبار میں دھیان نہ نماز روزہ میں بے حیائی عروج پر پہنچ چکی تھی والدین نے بچوں کی تربیت سے دامن جھاڑ لیا تھا ، پلموری امبولزم جیسی مہلک بیماریوں نے ڈیرہ ڈال دیا تھا ، اخبار بینی و مطالعہ ختم ہو چکا تھا ، ساتھ ہی معاشرہ میں زہر گھولنا  ، انسان کو انسان سے لڑانا مذہب کی بنیاد پر تو کبھی مال و دولت کی بنیاد پر یہ وہ مصروفیات تھیں جو سراسر نقصان و ھلاکت کا باعث تھی ، اور ان تمام بری عادتوں سے بچنے کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعا سکھائی تھی : اللهم جنبنى منكرات الاخلاق و الاعمال و الأهواء و الادواء .

 ( أخرجه الترمذي) ترجمه: اے اللہ مجھے برے اخلاق برے اعمال بری خواہشات اور بری بیماریوں سے بچا ۔

اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی شان سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دعا کو روز پڑھنے والے کی اس مضمون میں ذکر کردہ تمام برائیوں سے حفاظت فرمائے گا ۔  آمین

ٹیلی ویژن نے کیا کم ستم ڈھایا تھا کہ موبائیل فون بھی آدھمکے اسی مو بائل فون نے مصروفیات کے معنی ہی تبدیل کر دیئے کسی کو فلموں میں ، کسی کو کرکٹ میں ، کسی کو فحش اور گندی فلموں میں تو کسی کو گیمز میں مصروف کردیا ۔

کیا اپ جانتے ہیں کہ ان بے کار اور بے فائدہ مصروفیتوں نے کتنے خطرناک اور ہلاکت خیز اثرات معاشرے پر ڈالے۔ٹیلی ویژن نے مسلمانوں سے ان کے تشخصات چھین لئے تشخصات کے اہمیتوں کو ختم کیا اور ساتھ ہی بدنام بھی کیا ۔بے حیائی کو عام کیا ، عوام و علماء کے درمیان دراڑیں پیدا کیں ، مسائل شریعت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ،ایک مسلمان کو اس کے دین سے بغاوت پر ابھارا گیا۔ وغیرہ

اس سے زیادہ ہلاکت خیز اور خطرناک اثرات معاشرہ پر موبائل نے چھوڑے مسلمانوں کا سب سے بڑا جو نقصان ہوا وہ ایمان کا ہوا اسی موبائل کے ذریعہ ارتداد و الحاد نے زور پکڑا ہماری مسلم بیٹیاں اور بیٹے راہ راست سے جو متنفر ہوئے اس میں موبائیل کا بہت بڑا دخل ہے ۔ اسی موبائیل نے ادب و احترام کو ختم کر دیا ، والدین سے ان کے اولاد اور اولادوں سے انکے والدین چھین! لئے ان کے درمیان کی محبتوں کوختم کیا ، بچوں سے طلباء و طالبات سے ان کا مستقبل چھین لیا، گھر کا سکون و چین غارت کر دیا، نوجوانوں سے ان کی حیا  اور پاکدامنی چھین لی ، مال حرام کی تمیز چھین لی۔ اسی جانب علا مہ اقبال نے اشارہ کیا تھا۔

کہ شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نا بود۔            ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود۔ 

وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود۔        یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود۔ 

محترم قارئین کرام :  ان تمام مصروفیات میں ایک مصروفیت ہمارے نوجوانوں کی مصروفیت گیم  ہے یہ بھی معاشرہ کا بہت ہی بڑا ناسور بنتا جا رہا ہے اوپر  جو خرابیاں بیان کی گئی ہیں وہ تو ہمارے نوجوانوں میں ہیں مگر اب وہ ان کی طبیعتوں پر بھی بڑا گہرا اثر ڈال رہی ہے ڈاکٹروں کے مطابق موبائل کا استعمال کرنے والے اور  گیمز کھیلنے والے بچے جسمانی اور مینٹلی طور پر متاثر ہو رہے ہیں چھوٹے اور معصوم بچوں نے کھانا پینا کم کر دیا ہے ، ان بچوں میں چڑچڑا پن ، حالت کا نہ بننا ، ذہنی تناؤ ، آنکھوں اور دماغ کا بیلنس کھو دینا  ، موبائل نہ دینے پر بیمار ہو جانا جیسے امراض پائے جا رہے ہیں ۔

ایسے ہی ایک اور ہلاکت خیز مصروفیت جس میں مسلم معاشرہ دن بدن مصروف ہوتا جا رہا ہے اور حلال و حرام کی تمیز ، چھوٹے بڑوں کا احترام ختم ہو رہا ہے جیسے کہ مسلمانوں کا اس سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے ۔  وہ ہے ان لائن گیم جس پر جوا اور سٹا کھیلا جاتا ہے ان گیم میں سے چند گیم کا تذکرہ میں کرتا ہوں ۔

 رمی سرکل ،  پب جی ، لوڈو ، تین پتی،  کینڈی کرش ، بنگو وغیرہ ۔

پہلے زمانے میں کیرم ، مٹکہ ، پتے ، اکڑے ، کھیلے جاتے تھے اور جو شخص ان کھیلوں میں ملوث پایا جاتا تو اسے خوب لعن تان کیا جاتا تھا معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں رہتا تھا ، مگر اب یہ سارے کھیل موبائل میں آگئے ہیں جس پر جوا اور سٹہ لگایا جاتا ہے جو کہ سراسر حرام ہے اب اس میں صرف بدمعاش لوگ ہی نہیں بلکہ دیندار سمجھے جانے والے لوگ بھی مبتلا ہیں ۔ العیاذ باللہ

 لہذا جوا ، سٹہ اور ان جیسی برے گیم میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا فرمان ہے ملاحظہ فرمائیں ۔

يا ايها الذين امنوا انما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون.  )سوره المائده)

اے ایمان والو یہ جو ہے شراب اور جوا ، بت اور پانسے سب گندے کام ہیں شیطان کے تو ان سے  بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ ۔

اس ایت مبارکہ میں شراب جوا بت اور تیرا اندازی کے ذریعے کھیلے جانے والے جوئے کو شیطان کے عملوں میں سے اور حرام ہونا بتایا ۔ اور کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لیے اس سے بچنے کا حکم بھی دیا۔

اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ جو شخص نرد یعنی چوسر جوئے کے طور پر کھیلتا ہے وہ خنزیر کے گوشت کھانے والے کی طرح ہے اور جو جوئے کے طور پر نہیں کھیلتا تو اس کی مثال خنزیر کی چربی کا تیل استعمال کرنے والی کی طرح ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد نمبر 14 صفحہ نمبر 372 )

مذکورہ آیت اور حدیث مبارکہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ موبائل گیم حرام و ناجائز ہے ان کا کھیلنا ایک شریف النفس انسان کی شرافت کے بھی خلاف ہے ۔

 مجھے امید ہے کہ آپ کو پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ موبائل گیم نے ہماری گیم کس طرح کی۔